اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کے الیکٹرک حد سے کہیں زیادہ بل گھروں پر بھیجتی ہے اور صارف اس کی شکایت لے کر کے الیکٹرک کے مرکز پہنچتا ہے تو اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ اس کے بل کی قسطیں ضرور کردی جاتی ہیں لیکن اس صارف کے بل کو کم نہیں کیا جاتا چاہے وہ کتنے لاکھ روپے کا ہی کیوں نہ ہو!


धाकड़ खबर | 27 Jul 2019

کراچی کو اندھیروں میں غرق کرنے والی ’کے الیکٹرک‘ کے ظالمانہ اقدامات پر نہ تو حکومت کچھ بول رہی ہے اور نہ ہی اپوزیشن میں شامل کوئی سیاسی جماعت بات کر رہی ہے۔ شروع شروع میں تو عوام برداشت کرتے رہے مگر گزشتہ پانچ چھ ماہ سے ہر صارف پریشان بلکہ بہت پریشان ہے۔ دو روز قبل میں فوٹو اسٹیٹ کی دکان پر گیا جہاں ایک بزرگ بجلی کے پرانے بلز کی فوٹو اسٹیٹ کرواتے جاتے تھے اور ساتھ میں اپنے آنسو بھی صاف کرتے جاتے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کے الیکٹرک حد سے کہیں زیادہ بل گھروں پر بھیجتی ہے اور صارف اس کی شکایت لے کر کے الیکٹرک کے مرکز پہنچتا ہے تو اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ اس کے بل کی قسطیں ضرور کردی جاتی ہیں لیکن اس صارف کے بل کو کم نہیں کیا جاتا چاہے وہ کتنے لاکھ روپے کا ہی کیوں نہ ہو!

یہاں ایک اور عجب کرپشن کی غضب داستان سن لیجیے۔ بجلی کا جو ظالمانہ ٹیرف وزارت بجلی و پانی کی جانب سے کے الیکڑک کو دیا گیا ہے، اس کے بعد 5 کلو واٹ کے صارفین کو پیک اور آف پیک کے نام پر 5.79 فی یونٹ کے بجائے آف پیک ٹائم میں 14.38 فی یونٹ اور پیک ٹائم میں 20.70 فی یونٹ چارج کیے جارھے ہیں۔ یعنی چار سو فیصد اضافہ۔ لیکن اس پر کوئی بھی بولنے والا نہیں۔



अन्य ख़बरें

Beautiful cake stands from Ellementry

Ellementry